بھٹکل:30/ڈسمبر (ایس او نیوز) پانی کا کنکشن دینے کے معاملے میں چار ہزار روپیہ رشوت لینے کے الزام میں گذشتہ روز بھٹکل میونسپل چیف آفسر رمیش کو گرفتار کیا گیا تھا اور اُس کے پاس سے چار ہزار روپیہ برآمد کی گئی تھی، اس تعلق سے مقامی سطح پر اس طرح کی بانیں سنی جارہی ہیں کہ اُنہیں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کنٹریکٹر کے ذریعے اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) افسران کو دی گئی شکایت میں گھر کے مالک کا نام برماور سید اسماعیل درج ہے جبکہ چھان بین سے پتہ چلا ہے کہ ایسا کوئی شخص دئے گئے پتہ پر موجود ہی نہیں ہے، سنا جارہا ہے کہ اس نام کا شخص انتقال کرچکا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کنٹریکٹر نے جس گھر کے لئے پائپ لائن کنکشن کی منظوری مانگی تھی وہ گھر کہیں پر موجود ہی نہیں ہے۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ عرضی کے ساتھ منسلک کردہ دستاویزات جعلی ہیں۔ گھر کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ گھر کا جو نقشہ دیا گیا ہے کہ اس کے مطابق مکان نوائط کالونی ، تنظیم روڈ میں ہونا چاہئے ، مگر نقشہ کےساتھ جو آرٹی سی کے کاغذات منسلک کئے گئے ہیں، وہ مشما مسجد کے ہیں۔(ان دونوں دستاویزات کی نقل ساحل آن لائن کے پاس محفوظ ہیں۔)
ایسا لگ رہا ہے کہ متعلقہ کنٹریکٹر نے اپنی دشمنی نکالنے کے لئے بلدیہ چیف آفیسر کو پھنسانے کےلئے بہت ہی مکاری وعیاری کے ساتھ کوشش کی ہے ۔ رقم معاملہ میں گھپلہ بازی کرنےو الے بلدیہ کے ایک ملاز م کے بھی اس معاملے میں ملوث ہونے کی اطلاع ہے، اور عوامی سطح پر الزام لگایا جارہا ہے کہ چیف آفیسر کے ہاتھوں زبردستی رقم تھما کر انہیں پھنسایا گیا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ملزم نے مشما مسجد کے دستاویزات متعلقہ پانی کنکشن کی عرضی کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا متعلقہ مسجد کے ذمہ داران اس معاملے پر قانونی کاروائی کریں گے ؟